ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / بھٹکل:ملک و ملت کو درپیش مسائل کاحل شریعت میں ہے : جماعت اسلامی ہند شعبہ خواتین کی نائب صدر کی پریس کانفرنس

بھٹکل:ملک و ملت کو درپیش مسائل کاحل شریعت میں ہے : جماعت اسلامی ہند شعبہ خواتین کی نائب صدر کی پریس کانفرنس

Sat, 29 Apr 2017 21:13:43    S.O. News Service

بھٹکل:29/اپریل(ایس اؤنیوز)معاشرے کو جو بھی مسائل درپیش ہیں اس کا بہترین حل اسلامی شریعت میں ہے، اسلام زندگی کا مکمل دستور ہے ہر گوشہ کی رہنمائی کرتاہے ، بعض لوگ اسلام نہ جاننے کی وجہ سے اسلامی قوانین کو لےکر غلط باتوں کو پیش کررہے ہیں، کبھی طلاقِ ثلاثہ تو کبھی تعددازدواج جیسے مسائل کو اچھالا جارہاہے، اگر طلاق ِ ثلاثہ اور تعدد ازدواج کو لے کر اللہ تعالیٰ کی حکمتیں ان پر واضح ہوجائیں تو یقیناً ہر شخص یہ کہے گا کہ اسلام کا ایک ایک قانون انسانی فطرت کے عین مطابق ہے ۔ جس خدا نے انسان کو پید اکیا ہے وہ بہتر جانتا ہے کہ انسان کے لئے کیاچیز اچھی ہے کیا چیز اس کی فطرت کے لئے مفید ہے، جو بھی قانون اسلام ہمیں دیتاہے وہ فطرت کے بالکل مخالف نہیں ہے، ا ن خیالات کا اظہار جماعت اسلامی ہند شعبہ خواتین کی نائب صدر، رکن شوریٰ اور بنگلورو سے تشریف فرما محترمہ امتہ الرزاق نے کیا۔

IMG_0873.JPG

وہ یہاں بھٹکل میں جماعت اسلامی ہند کی ملک گیرمسلم پرسنل لاء بیداری مہم کے موقع پرجمعہ کو رابطہ ہال میں منعقدہ خواتین پروگرام کی صدارت کرنے کے بعد اخبارنویسوں سے گفتگوکررہی تھیں ۔ محترمہ نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہاکہ اگر ہمارا معاشرہ اسلام پر مکمل عمل کرنا شرو ع کردے تو ہمارے درمیان کوئی مسائل نہیں ہونگے۔ آج ملک کو ، مسلمانوں کو اور دیگرقوموں کو جن مسائل کا سامنا ہے وہ صرف اور صرف اپنے پیدا کردہ خالق کے احکامات کی پابندی نہیں کرنےکی وجہ سے ہے۔ اگر کوئی احکامات پر عمل نہ کرتے ہوئے اسلام کو مورد الزام ٹھہراتاہے تو ہم یہ واضح کردینا چاہتےہیں کہ اسلام کا قانون عین فطرت کے مطابق ہے اسی کے لئے یہ قوانین بنائے گئے ہیں، اسی میں دنیا و آخرت کی بھلائی ہے۔ ایک سوال کے جواب میں محترمہ امتہ الرزاق نے کہاکہ سوشیل میڈیا پر جو بھی غلط پیغامات پوسٹ کئے جارہے ہیں ان پر توجہ نہ دیں، بلکہ مصدقہ طورپر کسی ادارے کی طرف سے ہی کوئی جانکاری یا معلومات دی جاتی ہیں تو ہی اس پر متحرک ہونے کی بات کہی۔ انہوں نے اسلام مخالف سازشوں کا پردہ فاش کرتے ہوئے کہاکہ جو سیاسی پارٹیاں ، فسطائی قوتیں اور دیگر ادارے ، میڈیا وغیرہ مسلم خواتین کولے کرجو ہمدردی جتارہےہیں اور اس کے لئے جن خواتین کو لاکر نمائش کی جارہی ہے، اس کی حقیقت اتنی ہی ہے کہ جن عورتوں کو اسلام سے دور کا بھی واسطہ نہیں ہے اور اسلامی قوانین سے انجان ہیں ایسی مسلم عورتوں کو چن چن کر لایاجارہاہے اور شو کیا جارہاہےاور اکادکا مسئلہ کی ایسی نمائش اور تشہیر کی جارہی ہے کہ گویا ہر خاندان کا یہی مسئلہ ہے ، جب کہ مسئلہ اتنا سنگین نہیں ہے جس طرح اس کو پیش کیا جارہاہے، البتہ اس طرح کے کہیں کہیں جو واقعات دیکھنے میں مل رہے ہیں انہی کو سمجھانے اور عوام میں بیداری لانے کے لئے جماعت اسلامی ہنداور دیگر ادارے کام کررہے ہیں یہ مہم بھی اسی کا ایک حصہ ہونے کی بات کہی۔ وہیں انہوںنے کہاکہ یہ مسائل صرف آج کے نہیں ہیں بلکہ ہمیشہ رہے ہیں اچانک آج کچھ لوگ سیاسی مفاد کی غرض اور اسلام سے متنفر کرنے کے لئے سوچی سمجھی سازش کے تحت ان مسائل کو بڑھا چڑھا کر پیش کررہے ہیں، پچھلے 70سالوں سے جماعت اسلامی ہند اس میدان میں کام کررہی ہے عوامی بیداری کو محسوس کرتے ہوئے مخصوص دنوں کے لئے مہم کو منایا جارہاہے تاکہ اس سے مسلمان مہمیز ہوکر کام کو آگے بڑھائیں۔ انہوںنے کہاکہ وہیں تعجب کی بات یہ ہے کہ ان مسائل پر ہوئے سروے اور اعدادو شمارات پر غورکرتے ہیں تو مسلمانوں سے زیادہ دیگر طبقات میں یہ شرح بہت زیادہ ہے اور اس سے بڑے سنگین مسائل ہیں ان پر کوئی توجہ دینے کے لئے تیار نہیں ہے، یعنی کچھ لوگوں نے ٹھان لی ہے کہ وہ اسلام کو ہرحال میں بدنام کریں گے۔ ہماری خواتین اس مہم کے ذریعے اس کی وضاحت کرنے کاکام کریں گی۔ مہم کے تعلق سے بتایا کہ مہم ختم ہوتے ہی کام ختم نہیں ہوگا بلکہ یہ کام ہمیشہ جاری رہے گا اس کے لئے کالج کی طالبات ، خواتین وغیرہ کے لئے سمینار، مذاکرے ، ورکشاپ منعقد کئے جائیں گے ، خود بھٹکل میں خواتین کے لئے ایک ورکشاپ ہوا جس میں 60سے زائد طالبات نے نہ صرف شرکت کی بلکہ کہاکہ ہم ہرحال میں اسلامی شریعت پر عمل پیرا رہتےہوئے دوسروں تک یہ پیغام پہچائیں گے۔ جماعت اسلامی ہند بھٹکل کی رکن جماعت اور الکوثر گرلس کالج کی پرنسپال محترمہ نبیرہ محتشم اس موقع پر اخبارنویسوں کا استقبال کرتے ہوئے مہمان کا تعارف پیش کیا۔


Share: